
لاہور ہائیکورٹ
بانی پی ٹی آئی کی زمان پارک کے باہر کار سرکار میں مداخلت کرنے کے مقدمے میں ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری
جسٹس امجد رفیق نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
بانی پی ٹی آئی نے درخواست میں کہا تھا کہ سیکورٹی خطرات کی بنا پر وہ حفاظتی اقدامات کے بغیر سیشن کورٹ نہیں جا سکتے، فیصلہ
وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ اسی نوعیت کا ایک آڈر اسلام آباد چیف کمشنر نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں کیا تھا، فیصلہ
وکیل کے مطابق اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی 8 قبل از گرفتاری ضمانتیں صرف ایک بار پیشی پر فکس ہوئیں تھیں، فیصلہ
بانی پی ٹی آئی پنجاب میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات چاہتے تھے، فیصلہ
بانی پی ٹی آئی کی درخواست تھی کہ جب تک ایسے انتظامات نہیں ہوتے، ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے، فیصلہ
بانی پی ٹی ائی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے، فیصلہ
لہذا اس بنا پر نہ تو وہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سیشن کورٹ میں پیش ہو سکتے ہیں، فیصلہ
اس بنا پر میرٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی ضمانت پر فیصلے کی درخواست مکمل طور پر قانونی ہے، فیصلہ
وکیل کے مطابق ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کا صرف پہلی پیشی پر آنا ضروری ہے، فیصلہ
وکیل کے مطابق، اس کے بعد ملزم کی غیر موجودگی میں بھی ملزم کی ضمانت پر فیصلہ ہو سکتا ہے، فیصلہ
وکیل کے مطابق، اگر ملزم ایک مقدمے میں گرفتار ہے تو اسے جیل سے بلا کر اس کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، فیصلہ
سرکاری وکیل نے یہ کہتے ہوئے ضمانت کی مخالفت کی کہ قبل از گرفتاری میں ملزم کا ہر پیشی پر آنا ضروری ہے، فیصلہ
سرکاری وکیل کے مطابق، صرف زیر ٹرائل ملزمان کو دوسرے کیسز میں بلایا جا سکتا ہے، فیصلہ
سرکاری وکیل کے مطابق، سزا یاقتہ شخص کو جیسے کہ بانی پی ٹی آئی ہیں، یہ سہولت نہیں دی جا سکتی، فیصلہ
سرکاری وکیل کے بیان کے بعد یہ معلوم ہو گیا کہ پانی پی ٹی آئی اس وقت کہاں ہیں، فیصلہ
لہذا، ملزم کی عدالت میں حاضری کا مسلہ حل ہو گیا ہے کیونکہ عدالت میں حاضری کا مقصد یہ پتا کرنا ہوتا کہ کیا ملزم زندہ ہے اور ملک سے بھاگا تو نہیں، فیصلہ
*اگر کوئی شخص ایک کیس میں گرفتار ہو تو اسکی کسی دوسرے کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، فیصلہ*
اگر کسی شخص کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوتی، اور وہ ہر پیشی پر عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے تو قانونی رحم و کرم پر تصور ہوگا، فیصلہ
اب اگر کوئی شخص ایک کیس میں گرفتار ہوتا ہے، تو عدالت اس کے کسی دوسرے کیس کی ضمانت پر فیصلہ کر سکتی ہے، فیصلہ
سرکاری وکیل نے کہا کہ مارچ 2023 میں اسلام آباد پولیس بانی پی ٹی آئی کو ایک کیس میں گرفتار کرنے کے لیے آئی، فیصلہ
سرکاری وکیل کے مطابق، پی ٹی آئی کارکنان نے وہ گرفتاری نہ ہونے دی، بانی پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی، فیصلہ
پانی پی ٹی آئی کی وکیل کے مطابق، بانی پی ٹی آئی پر مبینہ جرائم قابل ضمانت ہیں، فیصلہ
یہ واضح ہے کہ موجودہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں، فیصلہ
پولیس کا قانون پر عملدرآمد کی بجائے سیدھا ایف آئی آر درج کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، فیصلہ
قانون کے مطابق، پولیس کو متعلقہ جج کو بانی پی ٹی آئی کی عدالتی احکامات کی مبینہ نافرمانی کے بارے آگاہ کرنا چاہیے تھا، فیصلہ
*شائید بانی پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی انتقام کی وجہ سے یہ مقدمہ درج کیا گیا، فیصلہ*
عدالت بانی پی ٹی ائی کی منظور شدہ ضمانت کو کنفرم کرتی ہے، فیصلہ
عدالت بانی پی ٹی ائی کو پانچ لاکھ روپے کے مچلقے جمع کروانے کا حکم دیتی ہے، فیصلہ









