سیلابی صورتحال سنگین، سندھ کے کئی علاقے زیرِ آب

0
167
سیلابی صورتحال سنگین، سندھ کے کئی علاقے زیرِ آب

پنجاب میں تباہی کے بعد سیلابی ریلے اب سندھ میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ گڈو بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کے باعث بالائی سندھ کے کئی کچے کے علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔

گھوٹکی میں کچے کے 20 سے زائد دیہات ڈوب چکے ہیں، جبکہ کندھ کوٹ کے تقریباً 80 فیصد کچے کے علاقے پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اوباڑو اور نوشہرو فیروز میں بھی سیلابی پانی نے کئی بستیوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔

کمال ڈیرو کے قریب ایک کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے مقامی افراد نے پانچوں افراد کو بحفاظت بچا لیا۔

دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ٹھٹھہ اور سجاول کے درمیان 2 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی سمندر کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرہ لاحق ہے۔

پنوعاقل کے علاقے سدوجہ میں سیلابی ریلہ ڈیڑھ سو دیہات میں داخل ہو چکا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ابھی تک وہاں ریسکیو کا کوئی عملہ نہیں پہنچا۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:

گڈو بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 44 ہزار 658 کیوسک اور اخراج 5 لاکھ 14 ہزار 51 کیوسک ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 70 ہزار 580 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 62 ہزار 509 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 54 ہزار 354 کیوسک ہے۔

پنجند کے مقام پر پانی کی آمد و اخراج 6 لاکھ 64 ہزار 422 کیوسک تک پہنچ چکی ہے۔

صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

Leave a reply