
ہفتے کی رات آسمان پر ایک دلکش فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا جب چھ سیارے ایک خاص ترتیب میں ایک قطار کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف رہا تو دنیا کے مختلف علاقوں میں لوگ اس خوبصورت نظارے کو بغیر کسی خصوصی آلات کے بھی دیکھ سکیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ منظر اس وقت بنتا ہے جب سیارے سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین کے نقطۂ نظر سے ایک ہی سمت میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس ترتیب کو ماہرین فلکیات “سیاروی پریڈ” کہتے ہیں۔
اس موقع پر عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کو عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص حفاظتی عینک کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ سورج گرہن کی طرح آنکھوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔
یہ نظارہ زمین کے بیشتر حصوں سے دیکھا جا سکے گا۔ بہترین وقت غروبِ آفتاب کے فوراً بعد یا طلوعِ آفتاب سے پہلے ہوگا۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سیاروں کو بہتر طور پر دیکھنے کے لیے انہیں افق سے کم از کم دس ڈگری اوپر ہونا چاہیے، کیونکہ افق کے قریب فضا میں موجود دھند یا گردوغبار منظر کو دھندلا سکتا ہے۔
سیاروں کی شناخت کے لیے چند آسان نکات بھی بتائے گئے ہیں۔ زہرہ عام طور پر سب سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے اور سورج اور چاند کے بعد آسمان کا چمکدار ترین جسم سمجھا جاتا ہے۔ مریخ سرخی مائل نقطے کی صورت میں نظر آتا ہے، جبکہ زحل ہلکے پیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔ مشتری نسبتاً بلند مقام پر روشن ستارے کی طرح دکھائی دے سکتا ہے، جبکہ عطارد کو دیکھنے کے لیے افق کے قریب غور سے دیکھنا پڑتا ہے۔
ماہرین شہری روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ آسمان صاف اور واضح نظر آئے۔
آنے والے دنوں میں مزید فلکیاتی مناظر بھی متوقع ہیں، جن میں مکمل چاند گرہن اور ایک ہی مہینے میں دوسرا مکمل چاند شامل ہے، جسے عموماً “بلیو مون” کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض دنوں میں زہرہ اور مشتری ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے، جو دیکھنے والوں کے لیے ایک اور دلچسپ موقع ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر نہ صرف کائنات کی وسعت اور خوبصورتی کا احساس دلاتے ہیں بلکہ عام افراد میں فلکیات سے دلچسپی بھی بڑھاتے ہیں۔









