سڈنی حملہ: بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مبینہ روابط پر سوالات اٹھنے لگے

0
115
سڈنی حملہ: بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مبینہ روابط پر سوالات اٹھنے لگے

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے حالیہ حملے کے حوالے سے تحقیقات کے دوران ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد، ساجد اکرم اور نوید اکرم، سے منسوب پاسپورٹس کی تفصیلات زیرِ بحث آ گئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ساجد اکرم کے نام سے جاری پاسپورٹ بھارتی سفارتی حکام کی جانب سے 24 فروری 2022 کو دس سال کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا متعلقہ حکام کو ابتدا سے حملہ آور کی شہریت سے آگاہی حاصل تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ واقعے کے ابتدائی مرحلے میں حقائق منظرِ عام پر نہ آنے کے باعث بعض میڈیا پلیٹ فارمز کو قیاس آرائیوں کا موقع ملا۔ اسی تناظر میں بھارتی میڈیا میں ایسی آرا اور تبصرے بھی سامنے آئے جن میں حملہ آوروں کی شہریت سے متعلق مختلف مفروضے پیش کیے گئے۔

ناقدین کے مطابق غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر الزامات عائد کرنا گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے علاقائی سطح پر غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

یہ معاملہ اس پس منظر میں بھی زیرِ غور آ رہا ہے کہ ماضی میں برطانوی اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا تھا کہ آسٹریلیا نے 2020 میں بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک دو اہلکاروں کو ملک بدر کیا تھا، جن پر مقامی سطح پر خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سڈنی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے اور کسی بھی ممکنہ تعلق یا پس منظر کے بارے میں حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔

تاحال اس معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ آسٹریلوی ادارے واقعے کی جامع تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a reply