سپریم کورٹ کے جج کا چیف جسٹس کو خط: عدلیہ کے کردار اور آزادی پر گہری تشویش

0
143
سپریم کورٹ کے جج کا چیف جسٹس کو خط: عدلیہ کے کردار اور آزادی پر گہری تشویش

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کا ایک اہم خط چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے عدلیہ کے کردار اور اس کی خودمختاری کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ خط 8 اکتوبر 2025 کو تحریر کیا گیا تھا اور ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب ملک میں ستائیسویں آئینی ترمیم اور عدلیہ کے اختیارات پر بحث جاری ہے۔

خط میں جسٹس اطہر من اللہ نے عدلیہ کی تاریخ اور اس کے کردار کا خود احتسابی جائزہ لیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ اکثر طاقتور طبقات کے ساتھ کھڑی رہی، عوام کے حق میں کم فیصلے کیے گئے۔ خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی کو وہ عدلیہ کا ایک “ناقابلِ معافی جرم” قرار دیتے ہیں۔

جسٹس من اللہ نے مزید لکھا کہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی کارروائیاں بھی اس تسلسل کا حصہ ہیں، اور عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک اسی عدالتی کمزوری کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنائے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔

عدلیہ کے اندرونی خوف اور خاموشی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جسٹس من اللہ نے کہا کہ “ہم سچ جانتے ہیں مگر اسے صرف چائے خانوں کی سرگوشیوں تک محدود رکھتے ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ میں بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں بلکہ ایک “کھلی حقیقت” بن چکی ہے۔

خط کے آخر میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سچ بولنے والے ججز اکثر انتقام کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ جو نہیں جھکتے ان کے خلاف “احتساب کا ہتھیار” استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ خط ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے جب ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ڈھانچے اور اختیارات میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز زیرِ غور ہے، اور ملک میں عدلیہ کی خودمختاری پر بحث زور پکڑ رہی ہے۔

Leave a reply