
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری ہے، اور پیر کے روز یہ پہلی مرتبہ 4100 ڈالر فی اونس کی حد سے تجاوز کر گئی۔ معاشی ماہرین اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور امریکا میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی کو قرار دے رہے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمت میں پیر کو نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 4,106.48 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ دن کے دوران قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور سونا 4,116.77 ڈالر کی سطح تک بھی پہنچا۔ یہ اضافہ سال کے آغاز سے اب تک 56 فیصد ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ عالمی حالات برقرار رہے تو آئندہ سالوں میں سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے، اور 2026 تک اس کی قیمت 5000 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر 52.12 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ساتھ ہی دنیا کے کئی مرکزی بینک بھی سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں، جو مستقبل کی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔









