سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر معطل، ویڈیوز وائرل ہونے پر کارروائی

0
35
سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر معطل، ویڈیوز وائرل ہونے پر کارروائی

حکومتِ سندھ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر پروفیسر اظہر شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان پر نامناسب رویے، مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ہونے اور تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز میں پروفیسر اظہر شاہ کو غیر رسمی انداز میں انگریزی بولتے، غصے کا اظہار کرتے اور غیر معمولی حرکات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں وہ گاڑی میں سوار ہونے سے قبل رقص جیسے انداز میں حرکت کرتے اور طلبہ کی جانب اشارے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض صارفین نے اس صورتحال پر تنقیدی جبکہ کچھ نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔
صحافی وجیہہ ثانی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ طلبہ انہیں گھر بھیجنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ وہ اس صورتحال کو مقبولیت سمجھ رہے تھے۔ ڈاکٹر شمع جنیجو نے ان کے انگریزی بولنے کے انداز کو 90 کی دہائی کے ڈرامے کے ایک کردار سے تشبیہ دی۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی سندھ کی جامعات میں انتظامی صورتحال پر تنقید کی۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے کو سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی سے متعلق مسترد کی گئی قرارداد سے جوڑتے ہوئے طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ دوسری جانب مصنف الہان نیاز نے لکھا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والے افراد کا موازنہ محض ان لوگوں سے نہیں کیا جا سکتا جو ذاتی کمزوریوں کے باعث مؤثر کام کرنے کے قابل نہ ہوں۔
صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ساکھ برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی لیے فوری قدم اٹھایا گیا۔ جامعات و بورڈز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 10 فروری کو جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، جس پر کارروائی ضروری سمجھی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وائس چانسلر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پروفیسر اظہر شاہ کو فوری طور پر معطل کر کے باضابطہ انکوائری کا آغاز کریں۔ تحقیقات سندھ یونیورسٹی ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے تحت کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ فریق کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔ انکوائری پندرہ روز کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

Leave a reply