
ہاٹ لائن نیوز : وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ نے سندھ میں گندم ذخیرہ کرنے والے تین سو چھتیس ذخیرہ اندوزوں کی انٹیلی جنس رپورٹ حکومت سندھ کے حوالے کر دی ہے، رپورٹ میں ذخیرہ اندوزی میں افسران ، فلور ملز مالکان، عادی ذخیرہ اندوز اور اسمگلرز کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
حکومت سندھ نے رپورٹ کی روشنی میں صوبہ بھر کے 29 اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو ذخیرہ کی گئی گندم برآمد کرے گی، وفاقی وزارت داخلہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی۔ آئی۔ اے کو ستائیس صفحات پر مشتمل 1 مراسلہ بھی بھیجا ہے،مراسلے میں گندم ذخیرہ کرنے والے محکمہ خوراک کے برہ افسران ، بارہ فلور ملز ، 292 ذخیرہ اندوز اور انیس اسمگلرز بھی شامل ہیں۔








