سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ، ایندھن بردار طیاروں کو نقصان

0
23
سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ، ایندھن بردار طیاروں کو نقصان

سعودی عرب میں قائم ایک اہم فوجی اڈے پر میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے متعدد ایندھن بردار طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں حالیہ دنوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق میزائل حملے کے وقت متاثرہ طیارے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود تھے، جو دارالحکومت ریاض کے جنوب مشرق میں واقع ایک اہم فوجی تنصیب ہے اور جہاں امریکی افواج بھی تعینات ہیں۔ حملے کے دوران طیارے زمین پر کھڑے تھے جس کے باعث انہیں نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق متاثر ہونے والے طیارے امریکی فضائیہ کے سی–135 اسٹریٹو ٹینکر طیارے ہیں، جو جنگی اور بمبار طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان طیاروں کے ذریعے جنگی طیاروں کی پرواز کی مدت اور آپریشنل حد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل حملے میں طیاروں کو نقصان ضرور پہنچا تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ طیاروں کی مرمت کا عمل جاری ہے جبکہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو درپیش حالیہ مشکلات کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایک الگ واقعے میں دو امریکی ایندھن بردار طیارے آپریشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے تھے، جس کے نتیجے میں ایک طیارہ تباہ ہوگیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

حالیہ واقعات کے بعد حالیہ دنوں میں نقصان اٹھانے یا تباہ ہونے والے امریکی ایندھن بردار طیاروں کی تعداد کم از کم سات بتائی جا رہی ہے۔

ادھر خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں مختلف فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر خلیجی ممالک میں واقع اہم فوجی تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

Leave a reply