
اسلام آباد: سینیٹ نے ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔
منظور شدہ بل کے تحت ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی جو ورچوئل اثاثوں اور ان کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس، نگرانی اور ریگولیشن کے ذمہ دار ہوگی۔ اتھارٹی کا مقصد منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت، اور ورچوئل اثاثوں کے غیر قانونی استعمال کو روکنا ہوگا۔
اتھارٹی سرمایہ کاروں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرے گی اور لائسنس جاری کرنے، معطل کرنے یا منسوخ کرنے کا اختیار رکھے گی۔ مزید یہ کہ اتھارٹی دیگر ممالک کی ریگولیٹری ایجنسیوں کے ساتھ تعاون اور معلومات کے تبادلے کے معاہدے بھی کر سکے گی۔
قانون کے تحت بغیر لائسنس ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے پر پانچ سال تک قید اور 50 ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ یہ بل پاکستان میں یا بیرون ملک کام کرنے والے تمام ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں اور جاری کنندگان پر لاگو ہوگا۔








