
ہاٹ لائن نیوز : سائنسدانوں نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جس کی ‘ناک’ لوگوں کی سانسوں کو سونگھ کر قاتل بیماریوں کا پتہ لگائے گی۔
سائنسدانوں نے ایک طاقتور روبوٹک ناک بنائی ہے جو سنگین بیماریوں کا پتہ لگا سکتی ہے، بوسیدہ پھل تلاش کر سکتی ہے اور خطرناک گیسوں کا پتہ لگا سکتی ہے۔
نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کے مطابق روبوٹک ناک کی خاصیت یہ ہے کہ یہ 97 فیصد درستگی کے ساتھ سونگھنے والی بیماری کا پتہ لگاسکتی ہے۔ یہ انسان اور کتے کی ناک سے زیادہ طاقتور ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ روبوٹک ناک سادہ اور سستی ‘اینٹینا ٹیکنالوجی’ استعمال کرتی ہے جو ہمارے موبائل فونز اور ٹی وی میں پہلے سے موجود ہے۔
لیکن روبوٹک ناک مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ یہ ریڈیو سگنل بھیجتا ہے جو ہوا میں مخصوص کیمیکلز کا پتہ لگاتا ہے۔ یہ کیمیکل مریض کے سانس میں بھی پائے جاتے ہیں جوبیماریوں کی تشخیص میں مدددیتےہیں۔









