
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے سے متاثرہ افراد کے لیے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر نئی دکانیں تعمیر کرکے دی جائیں گی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک فعال کردیا جائے گا، اگرچہ اس منصوبے میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی، تاہم اس کے مکمل ہونے سے ٹریفک کے مسائل میں واضح کمی آئے گی۔ یہ سڑک روزانہ تقریباً پچاس ہزار افراد استعمال کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کی جگہ حکومت نئی عمارت تعمیر کرے گی جبکہ ہر دکاندار کو فوری طور پر پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ دو ماہ تک گھریلو اخراجات پورے کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور دکانوں میں موجود سامان کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت سندھ دکانداروں کے مالی نقصانات پورے کرے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب تک نئی عمارت مکمل نہیں ہوتی، دکانداروں کو دو ماہ تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور اسی مدت میں انہیں متبادل دکانیں دے دی جائیں گی تاکہ کاروبار بحال ہوسکے۔ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی مالی سہولت دی جائے گی، جبکہ قرض پر سود حکومت ادا کرے گی۔ نئی تعمیر میں دکانوں کی تعداد یا رقبہ پہلے سے زیادہ نہیں ہوگا اور دکانداروں کی مشاورت سے گل پلازہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ اس سانحے میں سرکاری کوتاہیاں بھی شامل ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی احتیاطی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ سندھ میں تمام عمارتوں کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سروے کے بعد عمارتوں کو ایک ہفتے کے اندر حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی، بصورت دیگر ایسی عمارتوں کو سیل کردیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے









