ساحلی علاقوں میں سمندری طغیانی کا خدشہ، ریسکیو ادارے ہائی الرٹ

امریکا کے شمال مشرقی علاقے اس وقت شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں، جس نے کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹس کے بعد متعدد ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور برفباری کے ساتھ تیز ہوائیں اور برفانی طوفانی جھکڑ بھی نظامِ زندگی کو مفلوج کر رہے ہیں۔
ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جہاں سرکاری ادارے مسلسل صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں سفری پابندیاں عائد ہیں جبکہ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔نیویارک سٹی اور بوسٹن کے ایئرپورٹس پر رش بڑھ گیا ہے جبکہ متعدد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ برفباری کی شدت کے باعث رن ویز کو صاف رکھنے کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں دو فٹ یا اس سے زائد برفباری متوقع ہے، جس سے بجلی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ساحلی پٹیوں پر سمندری طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ریسکیو اور ہنگامی ادارے الرٹ ہیں۔
یہ برفانی طوفان ایک بار پھر یاد دلا رہا ہے کہ قدرتی آفات کس طرح جدید ترین انفراسٹرکچر کو بھی چیلنج کر سکتی ہیں۔ حکام شہریوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گھروں میں رہیں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔









