زکوٰۃ سے اسپتال کی مشینری خریدنا: کیا جائز ہے؟

0
60
زکوٰۃ سے اسپتال کی مشینری خریدنا: کیا جائز ہے؟

ماہرینِ فقہ کے مطابق زکوٰۃ کی رقم صرف اس وقت درست طریقے سے ادا ہوئی تصور ہوتی ہے جب مستحق شخص کو ملکیت منتقل کی جائے۔ اَئمۂ اَحناف کی رائے کے مطابق زکوٰۃ کی رقم براہِ راست رفاہِ عامہ کے لیے خرچ کرنا، جیسے کہ کسی اسپتال کو مشینری فراہم کرنا، عام طور پر جائز نہیں، کیونکہ اس میں تملیک یعنی مالک بنانا شامل نہیں ہوتا۔
فقہی کتاب تنویر الابصار مع الدر المختار میں وضاحت کی گئی ہے کہ:
“زکوٰۃ ادا کرنیکی شرط یہ ہے کہ نادار کو اسکامالک بنا دیا جائے نہ کہ محض استعمال کی اجازت دی ہو۔”
اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ کی رقم سے مشینری خرید کر اسکوکسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کی ملکیت میں دے دی جائے، اور وہ شخص اسے اسپتال یا ضرورت مند مریض کے لیے ہبہ کرے، تو پھر یہ عمل جائز ہے۔
مثال کے طور پر: اگر کسی گردے کے مریض کو ڈائیلیسس مشین مہیا کرنی ہو، تو اسے اسپتال کو براہِ راست دینا فقہ کے مطابق درست نہیں۔ بلکہ اس مشین کو زکوٰۃ کے مستحق مریض کی ملکیت میں دے کر اسپتال کو ہبہ کروا دیا جائے، تو مشین نہ صرف اس مریض بلکہ دیگر مریضوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ یہی اصول ایکسرے، الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر ٹیسٹنگ مشینوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اس طریقے سے زکوٰۃ کی رقم صحیح شرعی طریقے سے خرچ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

Leave a reply