زرعی ادویات کی مارکیٹ میں خامیوں کی نشاندہی، اصلاحات کی ضرورت

0
135
زرعی ادویات کی مارکیٹ میں خامیوں کی نشاندہی، اصلاحات کی ضرورت

مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے زرعی ادویات اور کیڑے مار اسپرے کی مارکیٹ میں کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق مقامی سطح پر زرعی ادویات کی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے، جبکہ قوانین کے کمزور نفاذ اور منظوری کے پیچیدہ نظام نے بھی شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہر کا مسئلہ بڑھ رہا ہے اور دو سالہ شیلف لائف کی شرط کے باعث ادویات کا غیر ضروری ضیاع بھی ہو رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق مؤثر نفاذ سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھائی جا سکتی ہے اور کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اعلامیے میں صوبائی لیبارٹریوں کی صلاحیت اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جعلسازی کرنے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی اور صوبائی اختیارات میں اوورلیپ بھی پیدا ہوا ہے۔

کمیشن نے زرعی اسپرے کی منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کرنے، جعلی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور مقامی پیداوار اور مقامی آب و ہوا کے مطابق ادویات کو فروغ دینے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی گریجویٹس کو لائسنس یافتہ ڈسٹریبیوٹر بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

Leave a reply