
لاہور ہائیکورٹ
دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کو وزیراعظم اسسٹنس پیکج نہ دینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت
عدالت نے پاکستان ریلوے سے وزیراعظم اسسٹنس پیکج فنڈ کے حصول کے لیے وفاق سے کی گئی خط و کتابت کا ریکارڈ طلب کر لیا
جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس سلطان تنویر احمد نے ثریا بانو سمیت پندرہ درخواستوں پر سماعت کی
پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر علی بلوچ اور ڈپٹی سیکرٹری وفاقی وزارت خزانہ عمران حسین پیش ہوئے
وفاقی وزارت خزانہ نے وزیراعظم اسسٹنس پیکج کے لیے کوئی فنڈ نہیں دیا،چیف ایگزیکٹو ریلوے
ریلوے کا 129 ارب روپے بجٹ ہے،چیف ایگزیکٹو ریلوے
90 ارب روپے کی رقم پنشن کی مد میں ادا کی جاتی ہے،چیف ایگزیکٹو ریلوے
35 ارب روپے پیٹرولیم کی مد میں اخراجات کیے جاتے ہیں،چیف ایگزیکٹو ریلوے
ریلوے کو سالانہ بجٹ جاری نہیں کیا جاتا،عمران حسین ڈپٹی سیکرٹری وفاقی وزارت خزانہ
ریلوے ایک کمرشل ادارہ ہے جسے فنڈز جاری نہیں کیے جاتے،عمران حسین ڈپٹی سیکرٹری وفاقی وزارت خزانہ
وزارت خزانہ کے نمائندے کے بیان کے مطابق تو وزیراعظم اسسٹنس پیکج کی ادائیگی ہمارے ذمہ نہیں بنتی،چیف ایگزیکٹو ریلوے
وزیر اعظم اسسٹنس پیکج کے لیے ریلوے نے کیا کوششیں کیں،عدالت
عدالت جاننا چاہتی ہے کہ اس میں رکاوٹ کیا ہے،عدالت
آئندہ سماعت پر خط و کتابت کا ریکارڈ پیش کر دیں گئے،وکیل ریلوے
دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کی بیواؤں نے وزیراعظم اسسٹنس پیکج کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے
وزیر اعظم اسسٹنس پیکج کے ذریعے لواحقین کو 8 لاکھ روپے بچے کی نوکری اور گھر دینا تھا،موقف
پاکستان ریلوے کی جانب سے وزیراعظم اسسٹنس پیکج کی ادائیگی نہیں کی جارہی،موقف
عدالت دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے لواحقین کو وزیراعظم اسسٹنس پیکج دینے کا حکم دے،استدعا








