زمین کے اوپر خطرہ یا منظرنامہ؟ سورج کا عظیم کورونل ہول سامنےآگیا

0
89
زمین کے اوپر خطرہ یا منظرنامہ؟ سورج کا عظیم کورونل ہول سامنےآگیا

روسی سائنسدانوں نے سورج پر ایک انتہائی بڑا کورونل ہول دریافت کیا ہے، جس کی اونچائی تقریباً ایک ملین کلومیٹر ہے اور یہ الٹے نمبر “1” کی شکل میں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سوراخ زمین کی سمت ہے، اور اس کے ذریعے تیز رفتار شمسی ہوا زمین کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس سے مقناطیسی طوفان کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور شمالی و جنوبی نصف کرہ میں شاندار قطبی روشنی دیکھی جا سکتی ہے۔
پشکوف انسٹی ٹیوٹ آف ٹیریسٹریل میگنیٹزم، آئونوسفیئر اور ریڈیو ویو پروپیگیشن کے ماہرین کے مطابق یہ کورونل ہول سورج کے 11 سالہ شمسی چکر سے جڑا ہوا ہے، جس کا اگلا دور 2029–2030 میں شروع ہوگا۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ سوراخ پچھلے سال دسمبر میں بھی مشاہدہ کیا گیا تھا اور اس کا حجم سورج کے نصف قطر سے بھی بڑا ہے۔ روس کے اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اس سال مقناطیسی طوفان بڑھ سکتے ہیں اور یہ رجحان 2028 تک جاری رہ سکتا ہے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ سورج سے خارج ہونے والی پلازما کی لہریں 60 ڈگری سے زیادہ عرض البلد والے علاقوں میں قطبی روشنیوں کا سبب بن سکتی ہیں اور ریڈیو یا بجلی کے نظام میں وقتی خلل پیدا کر سکتی ہیں۔ سورج پر موجود دھبے اور گروہ چند دنوں سے چند ماہ تک موجود رہ سکتے ہیں، اور ان کی نگرانی کے ذریعے شدید شمسی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ دھبے اکثر شمسی دھماکوں اور کورونل ماس ایجیکشن سے قبل ظاہر ہوتے ہیں، جو زمین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply