
جیسا کہ ہر سال رمضان کے قریب عوام کے لیے زندگی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے، اس سال بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کا ایک نیا “تحفہ” دے دیا ہے۔
حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اب پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عوامی آمدنی پر اثر ڈالے گا بلکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
صرف پیٹرول ہی نہیں، بلکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 32 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ سیکٹر اور کاروباری سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈالے گا، جس سے روزمرہ کی زندگی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
عوام نے اس قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب اور متوسط طبقے پر سب سے زیادہ بوجھ ڈالیں گی۔
اقتصادی ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کے دوران متبادل منصوبے یا سبسڈی فراہم کرے تاکہ عام آدمی کی زندگی پر زیادہ دباؤ نہ پڑے۔









