
بالی ووڈ کے معروف کامیڈین اداکار راج پال یادو کو ایک طویل عرصے سے جاری مالی تنازع کے مقدمے میں چھ ماہ قید کی سزا کا سامنا ہے۔ عدالت کے حکم پر انہوں نے حال ہی میں تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔
یہ معاملہ سنہ 2010 سے شروع ہوا جب راج پال یادو نے بطور ہدایتکار اپنی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کی تیاری کے لیے ایک نجی کمپنی سے تقریباً پانچ کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ فلم کی ناکامی کے بعد وہ مقررہ وقت پر رقم واپس نہ کر سکے۔ سود اور جرمانوں کے باعث بقایا رقم بڑھتے بڑھتے تقریباً نو کروڑ روپے تک جا پہنچی۔
قرض کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے متعدد چیک باؤنس ہونے پر ان کے خلاف نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوئے۔ 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راج پال یادو اور ان کی اہلیہ کو مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جسے بعد ازاں سیشن کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔
معاملہ دہلی ہائی کورٹ تک پہنچا جہاں اداکار کو قسطوں میں ادائیگی کے کئی مواقع دیے گئے۔ عدالت کے مطابق جزوی ادائیگیوں کے باوجود مکمل رقم ادا نہ ہو سکی اور عدالتی ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
فروری 2026 کے اوائل میں ہائی کورٹ نے انہیں مقررہ تاریخ تک جیل حکام کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ مزید مہلت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انہوں نے عدالت میں پیش ہو کر خود کو حکام کے حوالے کر دیا اور سزا کا آغاز ہو گیا۔
ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران راج پال یادو نے مالی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں اور رقم کی ادائیگی کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
اداکار کی گرفتاری کے بعد فلمی حلقوں میں ان کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔ اداکار سونو سود نے انہیں اپنی آئندہ فلم میں کام دینے اور سائننگ اماؤنٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح میوزک پروڈیوسر راؤ اندر جیت سنگھ نے بھی مالی تعاون کی پیشکش کی اور دیگر افراد سے مدد کی اپیل کی۔ ہدایت کار انیس بزمی اور اداکار گرمیت چودھری سمیت کئی شخصیات نے بھی حمایت کا اظہار کیا۔
سیاسی حلقوں سے بھی مدد کی پیشکش سامنے آئی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے رہنما نے اداکار کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔
پیشہ ورانہ طور پر راج پال یادو حالیہ عرصے میں چند فلمی منصوبوں میں نظر آئے ہیں جبکہ ان کی مزید فلمیں ریلیز کے لیے تیار بتائی جا رہی ہیں۔
یہ کیس شوبز انڈسٹری میں مالی معاملات اور قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں فلمی ناکامی اور مالی دباؤ ایک بڑے قانونی تنازع میں تبدیل ہو









