آندھرا پردیش: ذاتی رنجش کے الزام میں ڈاکٹر خاتون پر ایچ آئی وی انجکشن، 4 گرفتار

0
65
آندھرا پردیش: ذاتی رنجش کے الزام میں ڈاکٹر خاتون پر ایچ آئی وی انجکشن، 4 گرفتار

آندھرا پردیش: ذاتی رنجش کے الزام میں ڈاکٹر خاتون پر ایچ آئی وی انجکشن، 4 گرفتار

کرنول: آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون پر الزام ہے کہ اس نے ذاتی رنجش کے باعث اپنے سابق تعلق کی بنیاد پر ایک ڈاکٹر خاتون کو ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن لگایا۔ پولیس نے اس کیس میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار شدگان میں 34 سالہ مرکزی ملزمہ بی بویا واسندھرا، ایک 40 سالہ نرس اور نرس کے دو بالغ بچے شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے سابق عاشق کی دوسری شادی قبول نہیں کر پا رہی تھی، جس کے باعث مبینہ طور پر ڈاکٹر خاتون کو نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ خاتون کرنول کے ایک نجی میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ 9 جنوری کو دوپہر کے وقت پیش آیا، جب ڈاکٹر خاتون ڈیوٹی مکمل کر کے گھر واپس جا رہی تھیں اور ان کے اسکوٹر کو موٹر سائیکل سے ٹکر مار دی گئی۔

الزام ہے کہ اسی دوران مرکزی ملزمہ موقع پر پہنچی اور مدد کا بہانہ کرتے ہوئے متاثرہ ڈاکٹر کو آٹو رکشے میں بٹھایا اور مبینہ طور پر ایچ آئی وی انجکشن لگایا۔ بعد ازاں ملزمہ موقع سے فرار ہوگئی۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزمہ نرس نے ایک سرکاری اسپتال سے ایچ آئی وی کے مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کیے تھے، جنہیں مبینہ طور پر حملے کے وقت استعمال کیا گیا۔

متاثرہ ڈاکٹر کے شوہر نے 10 جنوری کو کرنول تھرڈ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Leave a reply