دہشت گرد خوارج ہیں، اسلام سے کوئی تعلق نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

0
70
دہشت گرد خوارج ہیں، اسلام سے کوئی تعلق نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا سامنا ہے، جس میں صرف سیکیورٹی ادارے نہیں بلکہ پوری قوم فریق ہے۔
جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں اکثریت خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات اسی صوبے میں ہوئے جہاں بعض عناصر کی جانب سے سیاسی سرپرستی بھی دیکھی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ سال سیکیورٹی فورسز نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ایک ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کو خوارج قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق فتنہ الہندوستان یا دیگر نام نہاد گروہوں کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان سرزمین اس وقت مختلف دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں سے القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ سرگرم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق شام سے ہزاروں جنگجو افغانستان منتقل ہو چکے ہیں، جو پورے خطے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہوا، جبکہ اتحادی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ آج دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی و عسکری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہوتی ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ ان کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب سیکیورٹی فورسز کی مؤثریت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور شہادتوں کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کا تناسب تبدیل ہو چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی جیسے کوارڈ کاپٹر ڈرونز اور آئی ای ڈیز استعمال کر رہے ہیں اور اکثر مساجد یا آبادی کو بطور ڈھال استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانیت اور مقامی روایات کے منافی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق موجود ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد کے لیے وفاق، صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ فوج کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے، اور اگر اس ناسور کا خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکتے ہیں۔

Leave a reply