دو ماہ بعد معجزانہ واپسی: وہ لڑکی جو نہر میں غائب ہو گئی تھی

0
93
دو ماہ بعد معجزانہ واپسی: وہ لڑکی جو نہر میں غائب ہو گئی تھی

بھارت کے پنجاب کے ضلع فیروز پور میں دو ماہ قبل مبینہ طور پر نہر میں پھینکی گئی 17 سالہ لڑکی اچانک زندہ واپس آ گئی ہے۔ اتوار کو میڈیا کے سامنے پیش ہو کر لڑکی نے اپنی کہانی بیان کی اور اپنے والد کی رہائی کی درخواست بھی کی۔

29 ستمبر کو لڑکی کے والد، سرجیت سنگھ، نے اس پر شک کے بعد اس کے ہاتھ باندھ کر نہر میں دھکا دے دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد لڑکی کے کزن کی شکایت پر پولیس نے سرجیت سنگھ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا اور اسے حراست میں لے لیا۔ وہ دو ماہ سے عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

لڑکی نے بتایا کہ نہر کے تیز بہاؤ نے اسے دور تک لے گیا، لیکن رسّی ڈھیلی پڑنے کے بعد وہ ایک لوہے کی سلاخ کو پکڑ کر کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ تین راہگیروں نے اسے نہر سے نکال کر طبی امداد فراہم کی۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دو ماہ تک کہاں رہی، تاہم بتایا کہ اس دوران وہ بیماری کا علاج کروا رہی تھی۔

لڑکی نے کہا کہ اس کی چھوٹی بہنوں کا سہارا صرف والد ہیں اور اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ والد کو رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی اس نے الزام لگایا کہ اس کی والدہ نے بھی غصے اور نشے میں والد کو مزید اکسانے کا کردار ادا کیا۔

لڑکی نے پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی اور بتایا کہ وہ رشتہ داروں پر اعتماد نہیں کر سکتی۔

لڑکی کے سامنے آنے اور بیان کے بعد پولیس نے تفتیش دوبارہ شروع کر دی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقدمے کی نوعیت بدل کر اسے اقدامِ قتل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a reply