
روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے جوہری کروز میزائل “بوریویسٹنک” کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ روسی فوج کے سربراہ جنرل ویلری گراسموف کے مطابق یہ تجربہ 21 اکتوبر کو کیا گیا، جس میں میزائل نے تقریباً 14 ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کیا اور 15 گھنٹے تک پرواز کرتا رہا۔
جنرل گراسموف نے بتایا کہ یہ میزائل جدید دفاعی نظاموں کو ناکارہ بنانے اور کسی بھی ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اس کامیاب تجربے کے بارے میں روسی جوائنٹ گروپ آف فورسز کے کمانڈ سینٹر کے دورے کے دوران بریفنگ دی گئی۔
صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ بوریویسٹنک ایک ایسا منفرد ہتھیار ہے جو اس وقت دنیا کے کسی اور ملک کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق، میزائل کے تمام بنیادی تجربات مکمل ہو چکے ہیں اور اب اس کی تعیناتی سے قبل آخری تیاریوں پر کام کیا جائے گا۔
بوریویسٹنک روس کے جدید ہتھیاروں کے اس پروگرام کا حصہ ہے جسے ایس ایس سی-ایکس 9 “اسکائی فال” کے نام سے جانا جاتا ہے۔









