دریائےستلج میں اونچےدرجےکاسیلاب ، فصلیں مکمل تباہ

0
244
دریائےستلج میں اونچےدرجےکاسیلاب ، فصلیں مکمل تباہ

دریائے ستلج میں بھارتی حدود سے پانی کے مسلسل اخراج کے باعث سیلاب کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دریا میں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی، ہیڈ گنڈا سنگھ اور ہیڈ اسلام کے مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر بندوں کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے نچلے علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بہاولنگر، وہاڑی، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن اور لودھراں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں موجود کپاس، گنا، چاول اور سبزیاں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، اور حکومت کی طرف سے تاحال کوئی واضح امدادی پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے اچانک اور بغیر اطلاع کے پانی چھوڑنے کی روایت برقرار ہے، جسے ماہرین “آبی جارحیت” قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کی اس روش کو معاہدہ سندھ طاس کی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔

ریسکیو 1122، ضلعی حکومتیں، اور مقامی رضاکار متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم، متاثرین نے شکایت کی ہے کہ امدادی کاموں میں سست روی ہے اور کئی علاقوں میں تاحال حکومت کی موجودگی نہیں دیکھی گئی۔

اگلے 48 گھنٹوں میں پانی کی مزید آمد متوقع ہے
سیلابی پانی کے باعث نہ صرف فصلیں بلکہ پینے کے پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہو رہے ہیں
فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے

Leave a reply