
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سونے کی کان کنی پر عائد پابندی مزید 30 دن کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ پابندی دفعہ 144 کے تحت بڑھائی گئی ہے، جس کا اطلاق صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور قریبی علاقوں میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر جاری غیر قانونی کان کنی پر ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کان کنی سے دریا کے کناروں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ اس سے امن و امان کے مسائل، مقامی جھگڑوں اور اسمگلنگ کے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سونے کی غیر قانونی کان کنی میں استعمال ہونے والی مشینری، گاڑیاں اور دیگر آلات ضبط کریں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے حالیہ دنوں میں سونے کے بلاکس کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے، تاکہ کان کنی کے عمل کو شفاف اور قانونی دائرے میں لایا جا سکے۔









