خیبرپختونخوا: وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب پر سیاسی درجہ حرارت عروج پر

0
125
خیبرپختونخوا: وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب پر سیاسی درجہ حرارت عروج پر

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدوار میدان میں ہیں۔

اجلاس کے دوران سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی چیئرمین کی ہدایت پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کے لیے کیے گئے اقدامات سب کے سامنے ہیں، اور صوبائی خزانے کی صورتحال میں بہتری لائی گئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے علی امین گنڈا پور کے استعفے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور نہیں کیا جاتا، نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی تصور ہوگا۔ انہوں نے اس عمل کو متنازع اور جلد بازی پر مبنی قرار دیا۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایوان کو بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے دو مرتبہ تحریری استعفیٰ گورنر کو بھجوایا، اور ایوان میں بھی اپنا استعفیٰ دہرایا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی آئین کے مطابق جاری رہے گی اور قائد ایوان کا انتخاب اسی دائرہ کار میں مکمل کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران گیلری میں موجود افراد کی جانب سے شور شرابے پر اسپیکر نے کارروائی روکنے کی وارننگ دیتے ہوئے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

نئے وزیر اعلیٰ کے لیے مجموعی طور پر 4 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار شاہ جہاں یوسف، اور پیپلزپارٹی کی جانب سے ارباب زرک خان وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 145 ہے، جن میں سے 93 حکومتی اور 52 اپوزیشن ارکان ہیں۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے کم از کم 73 ووٹ درکار ہوں گے۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ دستخطی تضاد کے باعث منظور کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں 15 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں گورنر ہاؤس طلب کیا ہے۔

Leave a reply