خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی ترسیل کا انکشاف

خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو رقوم کی فراہمی کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق چمکنی دھماکے کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ایک اہم مذہبی شخصیت کو نشانہ بنانے والے حملے میں ملوث عناصر کو ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ادائیگیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں ملوث گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کرپٹو کرنسی افغانستان سے ای والٹ کے ذریعے کوئٹہ منتقل کی گئی، جہاں اسے پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے لاہور اور کرک بھیجا گیا۔
مزید تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ دہشت گردی کے اس نیٹ ورک میں شامل سہولت کار اور معاونین خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول پشاور، کرک، کوہاٹ، ضلع خیبر اور بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں سرگرم تھے۔
یاد رہے کہ 11 مئی کو 22 سالہ غیرملکی خودکش حملہ آور نے پولیس کی جانب سے روکے جانے پر چمکنی کے علاقے میں پولیس وین کو نشانہ بنایا تھا۔ حملہ آور کا تعلق ایک بین الاقوامی شدت پسند تنظیم سے بتایا گیا ہے، اور اس کا ہدف ایک معروف سیاسی و مذہبی رہنما تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور گزشتہ برس اپریل میں ایک نجی پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچا تھا، جہاں اس نے چند روز قیام کیا۔ بعد ازاں وہ لاہور بھی گیا۔ سیکیورٹی ادارے حملہ آور کے دیگر چار مبینہ ساتھیوں کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔








