خیبرپختونخوا میں بھنگ کی کاشت کو قانونی دائرے میں لانے پر غور

0
108
خیبرپختونخوا میں بھنگ کی کاشت کو قانونی دائرے میں لانے پر غور

خیبرپختونخوا حکومت نے بھنگ اور ہیمپ کی کاشت کو قانونی شکل دینے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کاشت پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے اور باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ذیلی کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہیمپ کی کاشت، لائسنس فیس، ایکسائز ڈیوٹی اور لائسنس کی مدت سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں ادویات کی تیاری کے لیے پانچ ایکٹر رقبے پر بھنگ کی کاشت کی فیس چھ لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس کے علاوہ بھنگ کی تیاری اور حتمی پیداوار پر بھی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔

لائسنس کے اجرا کے لیے درکار دستاویزات کو حتمی شکل دینے کی غرض سے ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، جس میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندے شامل ہوں گے۔

دستاویز کے مطابق محکمہ ایکسائز ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بھنگ کی کاشت اور اس کی پروسیسنگ کی نگرانی کرے گا، جبکہ لائسنس حاصل کرنے والی صنعت سیڈ رجسٹریشن، سرٹیفکیشن اور وفاقی سطح پر متعلقہ تقاضے پورے کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

اجلاس میں سکیورٹی اور نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی، جبکہ لائسنس کی مدت تین سے پانچ سال مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی ایکسائز کے مطابق ہیمپ سے ایچ بی ڈی آئل، ادویات اور فائبر تیار کیا جاتا ہے جو مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں حکومت سے ہیمپ کی کاشت کی اجازت حاصل کی جا رہی ہے اور اسے اورکزئی اور خیبر کے اضلاع میں متبادل فصل کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ بعد ازاں بھنگ کے لائسنس جاری کرنے پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھنگ بھی طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے اور تمام قانونی و حفاظتی تقاضے پورے کرنے کے بعد ادویات تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

Leave a reply