خلیج میں خطرے کی گھنٹیاں، امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر

0
60
خلیج میں خطرے کی گھنٹیاں، امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر

ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے متعدد شہروں پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود ان فوجی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ ایران نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خطے بھر میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عالمی امور پر تحقیق کرنے والے ادارے Council on Foreign Relations کے مطابق، امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 19 مقامات پر مستقل اور عارضی فوجی اڈے چلا رہا ہے۔ ان میں سے آٹھ مستقل اڈے بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی ابتدائی تعیناتی جولائی 1958 میں عمل میں آئی تھی، جب لبنان کے بحران کے دوران بیروت میں امریکی لڑاکا دستے بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مختلف ادوار میں بڑھتی اور گھٹتی رہی ہے۔
2025 کے وسط تک خطے میں تقریباً 40 سے 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہونے کا اندازہ ہے، جو بڑے مستقل اڈوں اور چھوٹے فوجی مراکز پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سب سے زیادہ امریکی فوجی قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود ہیں۔
خطے کے اہم امریکی فوجی اڈے
العدید ایئر بیس (قطر):
1996 میں قائم ہونے والا Al Udeid Air Base مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیس امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے علاقائی ہیڈکوارٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ یہاں ہزاروں فوجی اہلکار، درجنوں جنگی طیارے اور ڈرون تعینات ہیں۔
نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (بحرین):
بحرین میں واقع Naval Support Activity Bahrain امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکز ہے، جہاں ہزاروں اہلکار تعینات ہیں۔ یہ اڈہ خلیج میں بحری آپریشنز کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
کیمپ عارفجان (کویت):
Camp Arifjan کویت سٹی کے قریب واقع ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، جو خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے سپلائی اور انتظامی معاونت فراہم کرتا ہے۔
الظفرہ ایئر بیس (متحدہ عرب امارات):
Al Dhafra Air Base انٹیلی جنس، نگرانی اور فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں جدید جنگی طیارے اور نگرانی کے نظام تعینات ہیں۔
اربل ایئر بیس (عراق):
شمالی عراق میں واقع Erbil Air Base کو شام اور عراق میں فضائی آپریشنز اور مقامی افواج کو مشاورت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تازہ صورتحال کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیلیں بھی سامنے آرہی ہیں۔

Leave a reply