
چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے خلا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ علی بابا کی جانب سے تیار کردہ کیون 3 نامی اے آئی ماڈل کو زمین کے مدار میں کامیابی کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے، جو خلا میں کام کرنے والا دنیا کا پہلا جنرل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ماڈل سیٹلائیٹس کے ذریعے مدارِ زمین میں نصب کیا گیا، جنہیں اسٹار کمپیوٹ منصوبے کے تحت مئی 2025 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد خلا میں اے آئی پر مبنی کمپیوٹنگ، ڈیٹا پروسیسنگ اور تربیتی نظام کو فروغ دینا ہے۔
کیون 3 ماڈل خلا میں موجود رہتے ہوئے سوالات کے جوابات اور ڈیٹا کے نتائج تقریباً دو منٹ کے اندر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو خلائی کمپیوٹنگ میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ سیٹلائیٹس چینی ایرو اسپیس کمپنی ایڈ اسپیس ٹیکنالوجی نے لانچ کیے ہیں۔ کمپنی کا ہدف دنیا کی پہلی اے آئی کمپیوٹنگ سیٹلائیٹ کہکشاں قائم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت 2035 تک تقریباً 2400 انٹرفیس سیٹلائیٹس اور 400 اے آئی ٹریننگ یونٹس خلا میں بھیجے جانے کا ارادہ ہے۔
اگرچہ دنیا بھر میں کئی کمپنیاں خلا میں اے آئی ہب اور ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں، تاہم بیشتر اقدامات اب تک ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ جنوری 2026 میں ایلون مسک نے بھی ٹیسلا کے ڈوجو 3 منصوبے کا اعلان کیا، جس کا تعلق خلائی کمپیوٹنگ سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا مقصد توانائی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور زمینی انفراسٹرکچر پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس میدان میں ایلون مسک کو اس لیے برتری حاصل ہے کہ اسپیس ایکس پہلے ہی ہزاروں سیٹلائیٹس خلا میں بھیج چکی ہے۔
خلا میں اے آئی کی یہ پیش رفت مستقبل کی ٹیکنالوجی، تحقیق اور عالمی ڈیٹا نیٹ ورکس کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔









