خشک سالی میں اضافہ: بلوچستان میں پانی کی قلت سنگین مرحلے میں داخل

0
107
خشک سالی میں اضافہ: بلوچستان میں پانی کی قلت سنگین مرحلے میں داخل

بلوچستان میں قابلِ کاشت زمین تشویشناک حد تک کم ہوکر صرف 7.2 فیصد رہ گئی ہے، جس پر ماہرین نے سخت خدشات کا اظہار کیا ہے۔ صوبہ پہلے ہی کم بارشوں، پانی کی تیزی سے گرتی سطح اور غیر مؤثر آبی نظام کے باعث شدید موسمیاتی دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق پانی کی مسلسل کمی نہ صرف خشک سالی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے بلکہ آنے والے برسوں میں زرعی پیداوار میں بڑی کمی اور متاثرہ آبادی کی نقل مکانی جیسے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی ہر سال 3 سے 4 فٹ تک نیچے جا رہا ہے، جس سے دیہی کمیونٹیز کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔

زرعی علاقوں میں کسان بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ہنہ سمیت مختلف مقامات پر باغات اور کھیت پانی کی کمی کے باعث بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کبھی معیاری سیبوں کے لیے مشہور کئی باغات خشک ہونے لگے ہیں، جس سے کسانوں کی آمدنی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات—جیسے بہتر آبی ذخائر کی تعمیر، جدید آبپاشی کے طریقوں کا فروغ اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام—پر زور دیا ہے تاکہ صوبے کی زراعت اور مقامی آبادی کو شدید بحران سے بچایا جاسکے۔

Leave a reply