خامنہ ای پر حملہ مکمل جنگ ہو گا، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ

ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کی کارروائی خطے میں مکمل جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ایسی جارحیت کا بھرپور اور سخت جواب دے گا جو ناانصافی پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کو نشانہ بنانا دراصل ایران کے خلاف ہمہ جہت جنگ کے مترادف ہوگا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور ممکنہ سزاؤں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنانہ پالیسیاں عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
دلچسپ طور پر، سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے حال ہی میں ایک پیغام میں ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں قیدیوں کو دی جانے والی سینکڑوں سزائے موت عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکا نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، تاہم کسی براہِ راست کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس صورتحال کے اگلے ہی دن آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا اعتراف کیا اور بدامنی کا الزام امریکا اور اسرائیل کی حمایت یافتہ عناصر پر عائد کیا۔
ایران میں حالیہ مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ تہران کے مرکزی بازار سے ہوا تھا، جہاں لوگ مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ یہ احتجاج جلد ہی حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گیا اور مختلف شہروں تک پھیل گیا، جہاں مذہبی نظام کے خاتمے کے نعرے بھی سنائی دیے۔
حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کی، سیکیورٹی فورسز تعینات کیں اور مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ اگرچہ احتجاج میں کمی آئی ہے، تاہم ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات اب بھی موصول ہو رہی ہیں۔
ایرانی عدلیہ نے عندیہ دیا ہے کہ بدامنی سے متعلق مقدمات میں سزاؤں پر عملدرآمد دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق بعض کارروائیوں کو “محارب” کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جن کی سزا موت ہو سکتی ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ اداروں کے مطابق جزوی بحالی کے بعد ملک میں ایک بار پھر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سب سے شدید جھڑپیں شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں، جہاں ماضی میں بھی کشیدگی دیکھی جا چکی ہے۔









