خامنائی واپس آگئے، ٹرمپ کے چہرے پر خوف طاری، ایران کی جاری کردہ اینیمیٹڈ سیریز کے سوشل میڈیا پر چرچے

0
12

ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کی گئی ایک اینیمیٹڈ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور دنیا بھر میں اسے بڑے پیمانے پر دیکھا اور شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو نے اپنے ڈرامائی انداز اور علامتی پیغام کی وجہ سے صارفین کی خاص توجہ حاصل کر لی ہے۔

 

’خامنہ ای از بیک‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی تقریباً دو منٹ پینتالیس سیکنڈ کی اس اینیمیشن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے آخری لمحات اور قیادت کے تسلسل کو علامتی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویڈیو کا آغاز ایک پرسکون اور جذباتی منظر سے ہوتا ہے جہاں رہبرِ اعلیٰ کو اپنی رہائش گاہ کے صحن میں چہل قدمی کرتے دکھایا جاتا ہے۔ اسی دوران ان کی ننھی نواسی ان کے قریب آتی ہے اور انہیں گلے لگا لیتی ہے، جس سے منظر میں ایک نرم اور جذباتی فضا قائم ہو جاتی ہے۔

 

تاہم چند لمحوں بعد کہانی کا رخ اچانک بدل جاتا ہے۔ منظر آسمان کی طرف منتقل ہوتا ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی جنگی طیارے سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کی جانب بڑھتے دکھائے جاتے ہیں۔ طیارے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور میزائل فائر کر دیتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں زوردار دھماکے سے پورا کمپاؤنڈ تباہی کا منظر پیش کرنے لگتا ہے اور چاروں طرف دھواں اور ملبہ پھیل جاتا ہے۔

 

اس کے بعد ویڈیو ایک نئے منظر میں داخل ہوتی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میز کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو وہاں آ کر انہیں حملے کی اطلاع دیتے ہیں۔ دونوں رہنما کمپاؤنڈ کی تباہی کی خبر سن کر اطمینان اور مسکراہٹ کے تاثرات کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں، مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

 

اگلے مناظر میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے کے درمیان خاموشی چھا جاتی ہے اور گرد آہستہ آہستہ بیٹھنے لگتی ہے۔ اسی دوران ملبے میں سے ایک ہاتھ باہر آتا ہے اور ایک شخص خود کو ملبے سے نکالتا ہوا ایک سرخ پتھر والی انگوٹھی تک پہنچتا ہے، جسے علی خامنہ ای سے منسوب کیا گیا ہے۔ وہ اس انگوٹھی کو اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لیتا ہے۔

خامنائی واپس آگئے، ٹرمپ کے چہرے پر خوف طاری، ایران کی جاری کردہ اینیمیٹڈ سیریز کے سوشل میڈیا پر چرچے

بعد میں واضح کیا جاتا ہے کہ یہ شخصیت مجتبیٰ خامنہ ہیں جنہیں قیادت کے تسلسل کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ وہ ملبے کے درمیان کھڑے ہو کر ایرانی پرچم بلند کرتے ہیں جو حملے کے باوجود ریاست کی بقا اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

 

ویڈیو کے اختتامی حصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک فون کال موصول ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے ہی وہ کال وصول کرتے ہیں تو دوسری طرف سے آواز آتی ہے کہ “خامنہ ای واپس آ گئے ہیں”۔ یہ پیغام سن کر ٹرمپ کے چہرے پر حیرت اور خوف کے تاثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔

 

آخری منظر میں زمین کے اندر سے متعدد میزائل نمودار ہوتے ہیں جو بیک وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب فائر ہوتے دکھائے جاتے ہیں، جو ایک طاقتور جوابی ردعمل کی علامتی تصویر پیش کرتے ہیں۔

 

یہ ویڈیو منظر عام پر آتے ہی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔ اس کے مختلف مناظر اور اسکرین شاٹس بڑی تعداد میں شیئر کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی صارفین اس کے علامتی انداز، کہانی کے تسلسل اور مزاحمت کے پیغام کو سراہتے ہوئے تبصرے بھی کر رہے ہیں۔

Leave a reply