حمص کی مسجد میں خونریز حملہ، سیکیورٹی فورسز کی تحقیقات جاری

0
88
حمص کی مسجد میں خونریز حملہ، سیکیورٹی فورسز کی تحقیقات جاری

شام کے شہر حمص میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا مسجد کے اندر نصب کیے گئے بارودی مواد سے ہوا۔
شامی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق زخمیوں کی تعداد اٹھارہ تک پہنچ چکی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عارضی ہیں اور جانی نقصان میں اضافے کا امکان موجود ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ امام علی بن ابی طالب مسجد میں اس وقت پیش آیا جب نمازی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو بند کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
ایک سخت گیر سنی مذہبی گروہ، سرایا انصار السنہ، نے سوشل میڈیا پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس گروہ پر اس سے قبل دمشق میں ایک عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کا الزام بھی لگ چکا ہے۔
دوسری جانب سپریم علوی اسلامی کونسل نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ علوی برادری کو گزشتہ کچھ عرصے سے تشدد اور دباؤ کا سامنا ہے۔ کونسل نے خبردار کیا کہ ایسے واقعات ملک میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
شامی وزارتِ خارجہ نے دھماکے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے، جبکہ سعودی عرب، لبنان اور قطر سمیت کئی علاقائی ممالک نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار مسجد کے اندر نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، جس کا تعلق علوی فرقے سے تھا، شام میں سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

Leave a reply