حمزہ شہباز کی کامیابی کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں اہم سماعت

0
169
حمزہ شہباز کی کامیابی کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں اہم سماعت

اوسی بیپر۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ الیکشن ٹریبونل این اے 118 سے حمزہ شہباز کی کامیابی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت الیکشن ٹربیونل کے جسٹس انوار حسین نے عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت کی ٹربیونل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فریقین سے دلائل طلب کرلیے حمزہ شہباز کے وکیل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اعترضات عائد کردیے

درخواست گزار نے درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات لف نہیں کی، اعتراض
درخواست کے متعدد صفحوں پر دستخط بھی موجود نہیں ،اعتراض
الیکشن ایکٹ کے تحت کیس ان پیٹیشنز کو دیوانی انداز مین چلایا جانا چاہیے اعتراض
متعد الیکشن پیٹیشن میں مشترکہ سوالات ہیں اس کا جوابات چاہیے جسٹس انوار حسین
کیا درخواست میں نوٹسز ہونے کے بعد اعتراض عائد ہوسکتا ہے ،جسٹس انوار حسین
عام طور پر الیکشن ٹریبونل میں اعتراضات کی نوعیت معمولی ہوتی ہے جسٹس انوار

الیکشن ایکٹ کے تحت ٹریبونل کا طریقہ کار پرفیکٹ بنایا گیا ہے جسٹس انوار
لیکن یہ پرفیکٹ طریقہ کار پرفیکٹ نظام کے لیے ہے جسٹس انوار حسین
جہاں پر ایک انتظامی ادارے پر ایک ہی نوعیت کے سنگین الزامات ہوں تو کیا ہمیں عمومی اعتراضات دیکھنے چاہیے ،جسٹس انوار حسین

الیکشن ایکٹ کیوں بنا اس کا مقصد کیا تھا جسٹس انوار حسین

جمہوری سسٹم ہے عوامی نمائندے الیکٹ ہوکر آتے ہیں جسٹس انوار حسین
اس جمہوری پراسیس کی کیا ویلیو رہ جاتی ہے جہاں ایسے الزامات ہوں اور انکے جوابات نہ ملیں ،جسٹس انوار حسین

فلوریڈا والے الیکشن ہوں تو پھر اور بات ہے، وہاں ہم ایسے اعتراض دیکھ سکتے ہیں ،جسٹس انوار حسین
یہاں ہر دوسرا الیکشن عدالت میں آتا ہے جسٹس انوار حسین
اعتراض ہے کہ پیٹیشنز پر دستخط نہیں ہیں جسٹس انور حسین
کیا جج سائن کرنا نہیں بھول جاتا کیا پارلیمنٹرینز نہیں بھول جاتے جسٹس انوار حسین
الیکشن ٹریبونل کا دائرہ اختیار بہت محدود ہے ، وکیل حمزہ شہباز

اب تو سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا کہ ایک سول جج کیس سنتے وقت آئین کی کتاب سامنے رکھے، جسٹس انوار
اگر سول جج آئین کو دیکھ کر فیصلہ کرسکتا ہے تو پھر ٹریبونل کیوں نہیں ، جسٹس انوار حسین
آپکا کہنا ہے کہ یہ پپیششنز دیوانی طریقے سے چلنی چاہیے ،عدالت کا حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار۔
الیکشن ایکٹ کے سیکشن 142 کے تحت ٹریبونل کا اختیار ہے کہ وہ صیحح فیصلے کے لیے کیس کو دیوانی یا فوجداری طریقے سے چلائے ، جسٹس انوار حسین

Leave a reply