جنگ بندی معاہدہ کابینہ کے سامنے، نیتن یاہو کی سیاسی بقا داؤ پر لگ گئی

0
66
جنگ بندی معاہدہ کابینہ کے سامنے، نیتن یاہو کی سیاسی بقا داؤ پر لگ گئی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج اپنی حکومت کے سامنے ایک اہم جنگ بندی معاہدہ پیش کرنے جا رہے ہیں، جس پر اسرائیل اور حماس کے درمیان ابتدائی طور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیلی افواج غزہ کے مخصوص علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کریں گی، جبکہ حماس قیدی بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کو بتدریج رہا کرے گی۔ قطر، مصر اور ترکیہ نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔

معاہدے کو اسرائیلی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اور اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو 72 گھنٹے کے اندر قیدیوں کی رہائی کا پہلا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ عمل ممکنہ طور پر پیر سے شروع ہوگا۔

اسرائیلی سیاست میں یہ معاہدہ غیر معمولی تناؤ کا سبب بن گیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے کئی رہنما اس معاہدے کی شرائط سے ناخوش ہیں، جس سے حکومت کے اتحاد میں دراڑ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر معاہدہ منظور کروانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا۔

دوسری جانب نیتن یاہو کو عوامی سطح پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کے اہل خانہ اور ان کے حمایتی گروہ حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ سیاسی مفادات کے باعث قیدیوں کی رہائی کے کئی مواقع ضائع کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی امریکی صدر ٹرمپ اور ثالثی عمل میں شریک ایلچیوں کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے، جب کہ نیتن یاہو کے کردار کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کے ممکن ہونے میں فوجی کارروائی سے زیادہ سفارتی کوششوں کا ہاتھ رہا ہے۔ اس پس منظر میں نیتن یاہو کی حکومت اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کا شکار ہے، اور آنے والے دنوں میں اسرائیلی سیاست میں بڑی تبدیلیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Leave a reply