
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں واقع کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں نے ایک منصوبہ بند حملہ کیا جس میں بارود سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرائی گئی اور کالج کے مین گیٹ سمیت ملحقہ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حملہ فتنہِ الہند نامی گروہ کے حمایتی عناصر نے کیا، جنہوں نے کالج کی بیرونی سیکیورٹی سرحد توڑنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز کی چوکنّا اور فوری کارروائی کے نتیجے میں اندر داخل ہونے والے حملہ آوروں میں سے دو ہلاک اور تین حملہ آور کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جنہیں بعد ازاں کالج کے انتظامی بلاک میں محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ محاصرہ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اندر چھپے دہشت گرد اپنے افغان رابطوں کے ذریعے ہدایات حاصل کر رہے تھے اور یہ کارروائیاں ان دھڑوں کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں جو افغان سرزمین سے منظم کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ واقعے کا مقصد نئی نسل میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، خاص طور پر اُن طالب علموں کو نشانہ بنانا جو قبائلی علاقوں سے باہر جا کر معیاری تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندانوں اور معاشروں کے مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور اُن کی قیادت کے خلاف اپنی خود دفاعی کارروائیوں کا حق محفوظ ہے اور علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کر چکے ہیں۔
اس واقعے میں جانی نقصان یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں حتمی معلومات ابھی تک شائع نہیں کی گئیں؛ متعلقہ ادارے امدادی اور تفتیشی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔









