
لاہور ہائیکورٹ میں جماعت اسلامی کے رہنما کے بیٹے کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت عدالت نے درخواست پر حکومت پنجاب اور ہوم سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق پنوں نے محمد عثمان کے ولد رفیح خان کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسکا بیٹا کسی مقدمہ میں نامزد نہیں لیکن نامعلوم کی بنیاد پر گرفتاری کیا گیا ہے۔بیٹا قانون اور آئین کا ماننے والا ہے درخواست گزار نے استدعا کی کہ اسکے بیٹے کیخلاف درج مقدمات نامزد اور نامعلوم دونوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، اور اس کے بیٹے محمد عثمان کی نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دیے جائیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کردی۔عدالت نے کاروائی کل تک ملتوی کردی۔









