جزیرہ خیوس کے قریب مہاجرین کی کشتی حادثے کا شکار، ہلاکتیں اور متعدد زخمی

یونان کے جزیرے خیوس کے ساحلی علاقے میں مہاجرین کو لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی اور یونانی کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
یونانی حکام کے مطابق حادثہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب خیوس اسٹریٹ میں اس وقت پیش آیا جب کوسٹ گارڈ ایک مشتبہ کشتی کا پیچھا کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی کشتی تیز رفتاری سے اور غیر محفوظ انداز میں چلائی جا رہی تھی، جبکہ اس پر نیویگیشن لائٹس بھی موجود نہیں تھیں۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق گشتی کشتی نے روشنی اور سائرن کے ذریعے رکنے کے اشارے دیے، تاہم مہاجرین کی کشتی نے اچانک رخ موڑا جس کے باعث دونوں کشتیوں میں ٹکر ہو گئی۔ تصادم کے فوراً بعد مہاجرین کی کشتی الٹ گئی اور تمام مسافر سمندر میں گر گئے۔
حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں اب تک 24 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ زخمیوں میں خواتین، بچے اور دو کوسٹ گارڈ اہلکار بھی شامل ہیں۔ متعدد افراد کو شدید چوٹیں، ہڈیوں کے فریکچر اور سردی کے باعث طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ کچھ زخمی تاحال انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
مقامی اسپتال انتظامیہ کے مطابق کئی زخمیوں کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے بعض کی فوری سرجری کی گئی۔ دو حاملہ خواتین کے حمل ضائع ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کوسٹ گارڈ نے تصدیق کی ہے کہ سمندر سے 14 لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں مرد اور خواتین شامل ہیں۔ تمام لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یونانی میڈیا کے مطابق بچ جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے، جبکہ ایک شخص نے اپنی شناخت مراکش کے شہری کے طور پر کی ہے۔ حکام اب بھی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حادثے کے وقت کشتی میں کل کتنے افراد سوار تھے۔
بدھ کے روز بھی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا، جس میں کوسٹ گارڈ کی متعدد کشتیاں، غوطہ خوروں کی مدد سے نجی کشتی اور ایک ہیلی کاپٹر شامل تھا۔
واقعے کے بعد یونانی حکام نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یونان کے وزیر برائے مہاجرت نے اس سانحے کو المناک قرار دیتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کو ایسے حادثات کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔









