تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید — سرکاری میڈیا

0
54
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید — سرکاری میڈیا

تہران (نمائندہ خصوصی) — ایران کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتہ کے روز ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے۔ سرکاری بیان کے مطابق حملہ تہران میں سپریم لیڈر کے دفتر پر کیا گیا جہاں وہ موجود تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے فوراً بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ سرکاری میڈیا نے بتایا کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سات روزہ سرکاری تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ قومی پرچم سرنگوں کر دیے گئے ہیں اور اہم سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد اس منصب پر مقرر ہوئے تھے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران انہوں نے ایران کی داخلی و خارجی پالیسی میں مرکزی کردار ادا کیا اور انہیں ملک کا سب سے بااثر سیاسی و مذہبی رہنما سمجھا جاتا تھا۔
حملوں کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ایرانی حکام نے اسے “براہِ راست جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حملے کا جواب “مناسب وقت اور مقام” پر دیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب اور خطے کی مجموعی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئینی طریقۂ کار کے تحت ماہرین کی مجلس نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل شروع کرے گی۔
دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور مرحوم رہنما کے حق میں نعرے بازی کی۔ سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ اور تدفین کے شیڈول کا اعلان جلد متوقع ہے۔

Leave a reply