توشہ خانہ ٹو کیس: 17 سال قید کی سزا کے باوجود عمران خان مسکرا دیے

0
137
توشہ خانہ ٹو کیس: 17 سال قید کی سزا کے باوجود عمران خان مسکرا دیے

اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فیصلے کے وقت عدالت میں موجود سابق وزیر اعظم نے مسکراہٹ کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان نے فیصلہ سننے کے بعد تمام قانونی راستوں کو استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے اور وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

وکیل کے مطابق، اس مقدمے کی سماعت میں بھی کئی قانونی نقائص موجود ہیں، جیسا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس میں دیکھا گیا تھا۔ سلمان صفدر نے مزید بتایا کہ عمران خان اوربشریٰ بی بی کو جیل میں سخت حالات میں رکھاگیاہے۔

قانونی ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ سماعت اڈیالہ جیل میں صبح نو بجے ہوگی، اور سخت موسمی حالات کے باوجود وکلا لاہور سے جیل پہنچے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جج نے دلائل مکمل کیے بغیر پہلے سے تیار 59 صفحات پر مشتمل فیصلہ پیش کیا۔

بی بی سی کے مطابق، فیصلے کے وقت عمران خان اور بشریٰ بی بی عدالت میں موجود تھے۔ جج کی متعدد ہدایات کے باوجود عمران خان ڈائس پر جانے سے انکار کر گئے اور فیصلے کے اعلان کے دوران اپنی اہلیہ سے گفتگو میں مصروف رہے۔ فیصلے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس پر وہ مسکرا دیے۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے فیصلے کے بعد کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہے اور اس سزا پر عملدرآمد اس وقت شروع ہوگا جب ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کی سزا کی مدت ختم ہو جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پہلی 14 سال کی سزا ختم ہونے کے بعد 17 سال کی سزا شروع ہوگی۔

Leave a reply