
آئی سی سی مینزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ءکے سپرایٹ مرحلے میں بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدکو اسوقت بڑا دھچکالگا جب سوریہ کمار یادیو کیقیادت میں ٹیم کو اتوار کےدن احمد آباد میں کھیلے گئے اپنے پہلےہی میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 76 رنز سے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس اہم مقابلے میں جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔ پروٹیز کی جانب سے ڈیوڈ ملر نے 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ ڈیوالڈ بریوس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 45 رنز اسکور کیے۔ بھارتی باؤلرز میں جسپریت بمراہ سب سے نمایاں رہے جنہوں نے عمدہ اسپیل کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں اور صرف 15 رنز دیے۔
188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار نظر آئی اور مطلوبہ رن ریٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ پوری ٹیم محض 111 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جس میں جنوبی افریقہ کے مارکو یانسن نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
اس شکست کے بعد بھارت کے لیے سیمی فائنل (فائنل فور) کی راہ اب کافی مشکل ہوچکی ہے۔ بھارت کو اب اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف اپنے باقی دونوں میچز لازمی جیتنا ہوں گے۔ اگر بھارت دونوں میچز جیت لیتا ہے تو اس کے 4 پوائنٹس ہو جائیں گے، جو عموماً اگلے مرحلے کے لیے کافی ہوتے ہیں، تاہم اگر دو دیگر ٹیمیں بھی 4 پوائنٹس حاصل کر لیں تو فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔
دوسری جانب، اگر بھارت صرف ایک میچ جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی کوالیفکیشن کا تمام تر انحصار دیگر ٹیموں کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔ ایسی صورت میں بھارت کو امید کرنا ہوگی کہ جنوبی افریقہ اپنے تمام میچز جیت جائے اور بھارت کی فتح اس ٹیم کے خلاف ہو جو ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے باہمی میچ میں فاتح رہی ہو۔ مجموعی طور پر، بھارتی ٹیم کی قسمت اب نہ صرف اپنی کارکردگی بلکہ دیگر میچز کے نتائج سے بھی مشروط ہوچکی ہے۔








