بھارت نے امریکی دباؤ پر روسی تیل کی خریداری معطل کر دی

بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی کے دعووں کے باوجود امریکی دباؤ کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنیوں نے روس سے تیل خریدنے کا طویل مدتی منصوبہ ترک کر دیا ہے اور یکم دسمبر سے ریفائنریاں غیر روسی خام تیل پر منتقل کر دی جائیں گی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی ایک بڑی توانائی کمپنی—جس کے روس کے ساتھ تقریباً 10 سالہ معاہدے کی مالیت 33 ارب ڈالر سے زائد تھی—نے روسی تیل کی درآمد روک دی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس نے بھی امریکی پالیسی کے مطابق روس سے تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روس سے خریداری رک جانے کے بعد بھارتی کمپنیوں کو مشرقِ وسطیٰ اور ممکنہ طور پر امریکا سے نسبتاً مہنگا تیل خریدنا پڑے گا، جو بھارت کے لیے معاشی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ریلائنس کا یہ اقدام واشنگٹن کی پالیسیوں کے لیے بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے واضح کیا تھا کہ اگر بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے میں پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا تازہ ترین فیصلہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔









