
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلادیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ایونٹ میں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے نہ صرف بنگلادیش کے میچز کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی درخواست مسترد کی بلکہ معاملہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی میں بھیجنے کی بنگلادیشی بورڈ کی اپیل بھی قبول نہیں کی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو ایک اور خط ارسال کیا تھا جس میں عالمی ادارے پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا گیا اور کہا گیا کہ آئی سی سی کو اپنے رکن بورڈز کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اگر بنگلادیش ٹی 20 ورلڈ کپ میں شریک نہیں ہوتا تو اسے تقریباً 350 کروڑ ٹکا کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کو ایک دن کی مہلت دی تھی، تاہم اس کے باوجود بنگلادیش نے بھارت میں ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار برقرار رکھا۔ بعد ازاں آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں بنگلادیش کی درخواست ووٹنگ کے ذریعے مسترد کردی گئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی حکومت کے دباؤ کے باعث آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا تھا، حالانکہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 9 کروڑ روپے سے زائد میں خریدا تھا۔
مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے بھارت میں ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کیا تھا۔








