بھارتی جارحیت میں اضافہ، سندھ طاس معاہدہ دباؤ میں

0
23
بھارتی جارحیت میں اضافہ، سندھ طاس معاہدہ دباؤ میں

پاکستان میں پانی کی قلت کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے، جبکہ خطے میں آبی وسائل سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر 1856 میگاواٹ کے سوالکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے 5,129 کروڑ بھارتی روپے کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے چناب پر اس نوعیت کے منصوبے سے پاکستان میں پانی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ چناب ان دریاؤں میں شامل ہے جن کا پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آتا ہے۔ اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کے بعد بھارت کی جانب سے ایک بڑا آبی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ملک کے اندر آبی ذخائر کی صورتحال بھی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ بڑے ڈیموں میں پانی کی آمد میں کمی اور اخراج میں اضافے کے باعث مجموعی قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ کم ہو کر 7.042 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1489.67 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں قابلِ استعمال ذخیرہ 2.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا میں پانی کی آمد 14.7 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ اخراج 30 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جس کے باعث ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔
منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1200.05 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور قابلِ استعمال ذخیرہ 4.253 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔ منگلا میں پانی کی آمد 8.6 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ اخراج 35 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جو آمد سے کہیں زیادہ ہے۔
دریائی بیراجوں کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 41.5 ہزار اور اخراج 43 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جس کے باعث متعدد رابطہ نہروں میں پانی کی فراہمی متاثر ہو چکی ہے۔ تونسہ، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں بھی زیریں بہاؤ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ کوٹری بیراج پر زیریں بہاؤ صرف ایک ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ رہ گیا ہے۔
ماہرینِ آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں میں کم بہاؤ سے زرعی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پانی کے مؤثر انتظام، ضیاع کی روک تھام اور محتاط استعمال کے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ربیع کی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آبی ماہرین نے متعلقہ اداروں اور عوام پر زور دیا ہے کہ دستیاب پانی کے بہتر استعمال اور تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ زرعی اور ماحولیاتی بحران سے بچا جا سکے۔

Leave a reply