بولیویا کے ٹورو ٹورو نیشنل پارک میں قدیم ڈائنوسار ہائی وے دریافت

0
110
بولیویا کے ٹورو ٹورو نیشنل پارک میں قدیم ڈائنوسار ہائی وے دریافت

بولیویا کے ٹورو ٹورو نیشنل پارک میں سائنس دانوں نےایک قدیم “ڈائنوسارہائی وے” دریافت کی ہے، جہاں 16,600 تھیراپوڈڈائنوسارکےپاؤں کےنشانات ملےہیں۔ تھیراپوڈز گوشت خور، دو ٹانگوں والے اور تین انگلیوں والے ڈائنوسارز تھے۔

یہ علاقے آج بھی اینڈیز کے پہاڑ، اٹاکاما صحرا اور ایمیزون کے گھنے جنگلات پر محیط ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق پاؤں کے نشانات سے یہ معلوم ہوا کہ ڈائنوسار کس طرح چلتے، دوڑتے اور پانی میں تیرتے تھے۔

تحقیق کے مطابق یہ نشانات تقریباً 66 سے 101 ملین سال پرانے ہیں اور نرم، کیچڑ والی زمین میں بنے تھے۔ یہ ٹریک مجموعی طور پر تقریباً 7,485 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ بعض نشانات الگ ہیں، لیکن زیادہ تر ایک لائن یا ٹریک ویز کی شکل میں ہیں، جو ایک ہی ڈائنوسار کے مسلسل قدموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جیری میک لارٹی، ٹیکساس کی ساؤتھ ویسٹرن ایڈونٹسٹ یونیورسٹی کے بائیولوجی ایسوسی ایٹ پروفیسر، نے کہا، “یہاں ہر طرف صرف ڈائنوسار کے پاؤں کے نشانات ہیں۔” زیادہ تر نشانات شمال، شمال مغرب یا جنوب مشرق کی سمت میں ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ راستہ تھیراپوڈز کے لیے بہت اہم تھا۔ ممکن ہے یہ راہ ارجنٹینا، بولیویا اور پیرو تک پھیلی ہوئی ہو۔

سائنسدانوں نے پاؤں کے نشانات سے یہ بھی جانا کہ کچھ ڈائنوسار آرام سے چل رہے تھے، کچھ دوڑ رہے تھے اور تقریباً 1,300 نشانات پانی میں تیرنے کے آثار ظاہر کرتے ہیں۔ بعض ٹریک ویز میں دُم کے نشانات بھی دیکھے گئے۔ قدموں کی لمبائی اور چوڑائی سے اندازہ ہوا کہ کچھ ڈائنوسارز کی پشت کی اونچائی تقریباً 65 سینٹی میٹر تھی جبکہ کچھ 125 سینٹی میٹر سے بھی زیادہ بلند تھے۔ ساحل پر چند سو پرندوں کے پاؤں کے نشان بھی دریافت ہوئے جو ڈائنوسارز کے ساتھ موجود تھے۔

ڈاکٹر پیٹر فالکنِگھم، لیورپول جان موورز یونیورسٹی کے پروفیسر، کے مطابق یہ پاؤں کے نشانات مختلف گہرائیوں میں محفوظ ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائنوسار اپنے پیروں کو کس طرح حرکت دیتے تھے۔ پانی میں تیرنے والے نشانات عام چلنے کے نشانات سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ درمیانی انگلی زیادہ گہری چھاپ چھوڑتی ہے۔

یہ دریافت سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ڈائنوسار کس ماحول میں رہتے تھے اور روزمرہ زندگی میں کس طرح حرکت کرتے تھے۔ ہڈیاں صرف یہ بتاتی ہیں کہ ڈائنوسار کیا کر سکتا تھا، لیکن پاؤں کے نشان حقیقی حرکت اور رویے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر میک لارٹی نے کہا، “یہ پاؤں کے نشان بلکل اسی جگہ موجود ہیں جہاں ڈائنوسار کبھی چل رہے تھے، جو حقیقت کے قریب ترین منظر پیش کرتے ہیں۔”

Leave a reply