بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کی واضح برتری، حکومت سازی کا اعلان

بنگلہ دیش میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے قومی اسمبلی میں نمایاں برتری حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور حکومت سازی کی تیاریوں کا عندیہ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 300 رکنی قومی اسمبلی کی 299 نشستوں پر پولنگ مکمل ہوئی، جبکہ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ کر دی گئی تھی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 212 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جو سادہ اکثریت کے لیے درکار 151 نشستوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
اپوزیشن اتحاد، جس کی قیادت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کر رہی ہے، نے مجموعی طور پر 70 نشستیں حاصل کیں۔ ان میں سے جماعت اسلامی کے امیدوار 62 نشستوں پر کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے بھی محدود تعداد میں کامیابی حاصل کی۔
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپنی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ طارق رحمان نے ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 سے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت انتخابی نتائج کا احترام کرے گی اور کسی بھی صورت میں محاذ آرائی کی سیاست کا راستہ اختیار نہیں کرے گی۔
تاحال حتمی اور سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے، جبکہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے حتمی اعداد و شمار بھی سامنے نہیں آئے۔ تاہم دستیاب غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اس وقت سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے اور آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی مشاورت جاری رہنے کا امکان ہے۔









