بنگلا دیش کے بائیکاٹ سے بی سی بی کو کتنے کروڑوں کا نقصان ہو سکتا ہے؟

0
87
بنگلا دیش کے بائیکاٹ سے بی سی بی کو کتنے کروڑوں کا نقصان ہو سکتا ہے؟

ڈھاکہ: بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم کے بھارت نہ جانے کے فیصلے سے 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو تقریباً 325 کروڑ ٹکا (27 ملین ڈالرز) کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نقصان بی سی بی کے سالانہ ریونیو، براڈکاسٹ رائٹس اور اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ ہے، جو تقریباً 60 فیصد یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ورلڈ کپ میں آمدنی پر پڑیں گے بلکہ بھارت کے ساتھ مستقبل میں طے شدہ دوطرفہ سیریز بھی خطرے میں آ سکتی ہے۔ اگر یہ سیریز منسوخ ہوئی تو اضافی ٹی وی اور اسپانسرشپ آمدنی بھی ضائع ہوگی، جو بی سی بی کے مالی سال کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
بی سی بی نے کھلاڑیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ میچ فیس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، تاہم کھلاڑی زیادہ تر کھیل کے جذبے اور مقابلے کی اہمیت پر توجہ دیتے ہیں۔
بنگلا دیش حکومت کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کو واضح کیا کہ سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جس کے بعد ٹیم کے بھارت جانے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔
سابق کپتان بلبل احمد نے امید ظاہر کی کہ صورتحال بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی، تاہم ان کی گفتگو میں غیر یقینی کے آثار نمایاں تھے۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔ اس دوران پاکستان اپنی تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جبکہ بنگلا دیش کا بائیکاٹ ٹورنامنٹ کے عالمی منظرنامے پر ایک غیرمعمولی رخ اختیار کر سکتا ہے۔

Leave a reply