بلوچستان میں دہشت گردی، سعودی عرب، قطر، امریکا سمیت عالمی برادری کی شدید مذمت

0
88
بلوچستان میں دہشت گردی، سعودی عرب، قطر، امریکا سمیت عالمی برادری کی شدید مذمت

31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ فتنہ الہندوستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 بے گناہ شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس دوران پاک فوج کے 15 بہادر جوان بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک کر دیے، جس سے صوبے میں ممکنہ مزید نقصان کو روکا جا سکا۔

حملوں کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں نے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ امریکا کے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ بی ایل اے دہشت گرد تنظیم ہے اور امریکا پاکستان کی امن و استحکام کی کوششوں میں مضبوط شراکت دار ہے۔ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فورسز کی حکمت عملی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ قطر نے بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ برطانیہ اور ترکیہ نے بھی پاکستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعلان کیا اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد صرف انسانی جانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ معاشرتی استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ ستائش ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے اظہار یکجہتی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اکیلا نہیں ہے۔

بلوچستان میں ہونے والے یہ المناک حملے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف ایک ملک یا فورس کا کام نہیں، بلکہ عالمی سطح پر تعاون اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور قربانیوں کا احترام، ایک مضبوط اور پرامن پاکستان کی بنیاد ہے۔

Leave a reply