بسنت کی واپسی، مگر شرطیں فولاد جیسی — خلاف ورزی پر 7 سال قید اور 50 لاکھ جرمانہ!

0
65
بسنت کی واپسی، مگر شرطیں فولاد جیسی — خلاف ورزی پر 7 سال قید اور 50 لاکھ جرمانہ!

پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دیتے ہوئے پتنگ بازی کے لیے سخت ضابطے نافذ کر دیے ہیں۔ نئے آرڈیننس کے مطابق انسانی جان کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے خطرناک مواد کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
حکومتی احکامات کے تحت چرخی، دھاتی تار، تندی، کیمیکل یا شیشہ ملا منجھا اور بلٹ پروف میٹیریل کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
آرڈیننس کے مطابق بغیر سرکاری اجازت کے پتنگ اڑانے پر 3 سے 5 سال قید اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ کیمیکل یا شیشہ ملا تیز دھاگہ استعمال کرنے پر کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید کے ساتھ 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
اسی طرح بغیر رجسٹریشن یا اجازت کے پتنگ بازی، تیاری، فروخت یا نقل و حمل کرنے والوں پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
لاہور میں ضرورت کے تحت دیگر علاقوں سے پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم سائز کی حد مقرر کی گئی ہے۔ گڈے کا زیادہ سے زیادہ سائز 40×34 انچ اور پتنگ کا سائز 35×30 انچ ہوگا، جبکہ صرف 9 دھاگوں پر مشتمل کاٹن ڈور استعمال کی اجازت ہوگی۔
شہر میں موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے 7 لاکھ سے زائد بائیکس پر سیفٹی راڈز نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ یہ پابندی موٹر سائیکل رکشوں اور لوڈر رکشوں پر بھی لاگو ہوگی۔
مذہبی، سیاسی علامات یا مقدس شخصیات و مقامات کی تصاویر والی پتنگوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش اور کسی بھی قسم کی قانون شکنی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
ایئرپورٹ کے اطراف پتنگ بازی پر مکمل پابندی
لاہور ایئرپورٹ سے ملحقہ علاقوں میں طیاروں کی آمد و رفت کے پیش نظر پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نادرا آباد، علی ویو سوسائٹی، گلشنِ علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک، ڈی ایچ اے کے بلاکس آر، ایس، پی، کیو، الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ اور کینال روڈ کے اطراف پتنگ بازی ممنوع ہوگی۔
بسنت فیسٹیول 2026 کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا اعلان
بسنت فیسٹیول 2026 کے موقع پر شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے فری ٹرانسپورٹ پلان متعارف کرا دیا ہے۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی 199 بسیں جبکہ آر ٹی اے کی 131 اضافی بسیں مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی۔
بس سروس شفٹ وائز آپریٹ ہوگی، جناح ٹرمینل، ریلوے اسٹیشن اور گرین ٹاؤن کو مرکزی ڈپو مقرر کیا گیا ہے۔ سب سے طویل روٹ جناح ٹرمینل سے بی آر بی تک ہوگا، جس کا فاصلہ 36 کلومیٹر ہے۔
حکومت کے مطابق بسنت کے موقع پر پورے شہر کو خصوصی ٹرانسپورٹ سروس سے کور کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو محفوظ، آسان اور کم خرچ سفری سہولت میسر آ سکے۔

Leave a reply